بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ چین جو اگلے دور کے لئے برکس (BRICS) تنظیم کی صدارت سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے؛ اپنے سونے کے ذخائر میں بھی مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ اس اقدام نے ـ بیجنگ کی جانب سے یوآن کے بین الاقوامی استعمال میں اضآفہ کرنے اور مغربی مالیاتی نظام سے آزاد ادائیگی (payment mechanisms) کے طریقہ کار تیار کرنے کی کوششوں کا ساتھ ساتھ ساتھ، ـ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ڈالر پر انحصار میں کمی کے حوالے سے بحث کو ایک بار پھر تقویت دی ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا نے اگست (2026ع) میں سونے کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے ذخائر میں تقریباً 20.2 ٹن کا اضافہ کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یہ ذخائر جمع کرنے کا مسلسل 22واں مہینہ تھا، جس کے بعد چین کے سونے کے کل ذخائر تقریباً 2387 ٹن تک پہنچ گئے۔
اس رجحان کی اہمیت اس حقیقت سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ سونے کے ذخائر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ، چین یوآن کے استعمال کو بین الاقوامی سطح پر رواج دینے اور غیر ملکی تجارت میں قومی کرنسیوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔
نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ برکس اجلاس میں مالیاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور سرحد پار ادائیگیوں کے لئے مقامی کرنسیوں کے استعمال پر زور دیا گیا؛ تاہم، برکس کے اعلامئے میں ڈالر اور سوئفٹ (SWIFT) کے فوری متبادل کے طور پر کسی مشترکہ کرنسی یا سونے کی پشت پناہی والے تصفیے کے نظام (settlement system) کے قیام کا اعلان نہیں ہؤا۔
حقیقت میں، جو صورتحال تشکیل پا رہی ہے وہ ایک متوازی مالیاتی نیٹ ورک کے قیام سے مشابہت رکھتی ہے؛ ایک ایسا نیٹ ورک، جس میں برکس کے رکن ممالک امریکی تسلط والے مالیاتی بنیادی ڈھانچے پر انحصار کم کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری میں قومی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
مزید برآں، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بڑھتی ہوئی طلب اس رجحان کو بامعنی بنا دیتی ہے۔ شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے اختتام تک سونا امریکی ٹریژری سیکیورٹیز کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا سرکاری ریزرو اثاثہ بن گیا، اور عالمی سرکاری ذخائر میں اس کا حصہ تقریباً 27 فیصد تک پہنچ گیا۔
اگرچہ حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چین باضابطہ طور پر "سونے کی پشت پناہی والا یوآن (Gold-backed Yuan)" متعارف کروا رہا ہے یا عالمی لین دین سے ڈالر کا خاتمہ کر رہا ہے، لیکن بیجنگ کے اقدامات کا سلسلہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے: "چین مستقبل کے عالمی مالیاتی ڈھانچے میں سونے، یوآن اور ادائیگی کے آزاد نظاموں کے کردار کو وسعت دے رہا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کے نتیجے میں عالمی تجارت میں ڈالر کی بالادستی بتدریج کمزور پڑ سکتی ہے اور امریکہ اپنی بالادستی کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک سے محروم ہو سکتا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ